Showing posts with label انسانی حقوق. Show all posts
Showing posts with label انسانی حقوق. Show all posts

Thursday, 10 December 2015

یواین او، پاکستان اور انسانی حقوق

| |
0 comments

10دسمبر انسانی حقوق کا عالمی دن ہے ۔ اس دن دنیا بھر میں انسانی حقوق کے حوالے سے نہ صرف ڈسکشنز ہوتی ہیں بلکہ فورم ،کانفرنسز ، سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں اور اس طرح یہ پروگرامات نہ صرف انسانی حقوق سے آگہی کا عمدہ ذریعہ بنتے ہیں بلکہ انسان میں برداشت اور حوصلہ پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
یہ 21ویں صدی ہے جس میں دنیا (گلوبل ویلج )عالمی گاؤں کا روپ دھار چکی ہے اور اس عالمی گاؤں میں جمہوریت، انسانی حقوق ،عدل وانصاف اور مساوات کابہت غلغلہ اور چرچا ہے۔
اس دنیا میں کوئی قوم بھی نہ تو اکیلے ترقی کرسکتی ہے اور نہ دنیا کو امن وامان مہیا کرسکتی ہے۔ یہاں امن و امان ہو یا ترقی کاحصول یہ سب ایک مشترکہ جدوجہد کامتقاضی ہے ۔ اس کے بغیر ان تک پہنچنا یا ان کاحصول ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اقوام متحدہ نے 2000ء میں ترقی کے 8 اہداف طے کئے ۔جن میں تعلیم کا فروغ،وبائی امراض، ٖغربت اور صنفی امتیازکا خاتمہ، ماں اور بچے کی صحت، ماحولیات اور ترقی کے ضمن میں مشترکہ جدوجہد اور کوشش سے اس معرکے کو سر کرنا مقصد ٹھہرا۔ 
اقوام متحدہ نے آمدہ پندرہ سالوں کے لئے نئے اہداف طے کیے ہیں ان میں افراد کی معاشی وسماجی حالت کا سدھار، تعلیم، صحت، ماحولیات، زرعی و صنعتی ترقی اور صنفی بنیادپر تفریق کے خاتمے کے لیے کام کرنا پیش نظر ہے۔اس میں شک نہیں کہ انسان کو ترقی کے فوائد وثمرات پہنچانے کے لئے یہ اہداف ایک لائحہ عمل متعین کرتے ہیں۔ ہر انسان کا یہ حق ہے کہ اسے تحفظ ملے، صحت و تعلیم تک رسائی ہو اورجان ،مال اور عزت وآبرومحفوظ ہو۔ترقی کے ان تمام اہداف کی بنیاد انصاف ہے ۔لیکن عالمی منظر نامے اور ملکی تناظر میں اس کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ عالمی سطح پر کشمیر، فلسطین، شام ،برماعراق ،افغانستان میں انصاف کے اصولوں کواپنے اپنے مفاد ات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے ۔وطن عزیزمیں بھی انصاف اور اس کا حصول ناممکن حصول نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ایک مخصوص طبقہ انصاف کے حصول میں کامیاب ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کے یہ اہداف قابل عمل ہیں لیکن انسان کو بحیثیت مجموعی امن اور انصاف کے حصول کے لیے اس آفاقی پیغام کی طرف مراجعت کرنا ہوگی اسلام کا یہ نظام انسان کو ان مسائل کے حل کے لیے آج بھی قابل عمل حل دیتا ہے۔ جس میں ایک انسان کے انفرادی اور اجتماعی کردار کا تعین کیاگیاہے۔اس کی بنیاد کسی مفاداورتعصب پر نہیںیہ اس خالق حقیقی کا دیا ہوا ابدی نظام ہے ۔ جس کی پیروی سے انسانیت دنیامیں بھی ترقی کا سفرطے کرسکتی ہے اور اُخروی زندگی میں بھی فوز و فلاح اور نجات پا سکتی ہے۔ 
ان اہداف کا مقصد یہ تھا کہ تمام اقوام ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ان اہداف کے حصول کی جانب آگے بڑھیں لیکن مجموعی طور پر سوائے چند ممالک کے کوئی ملک بھی ان اہداف میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکااور نہ کوئی پیش رفت ۔اس ضمن میں پاکستان میں بھی ماں اور بچے کی صحت کے علاوہ کسی بھی شعبہ میں کوئی کام نہ ہوسکا۔البتہ اس میں بھی پاکستان جنوبی ایشیاء کے ممالک میں سب سے نچلی سطح پر ہے ۔پاکستان میں ماؤں کی شرح اموات اوسطاً 276ہے جبکہ بچوں کی 78ہے۔ اس طرح تعلیم میں بھی ہم بہت پیچھے ہیں۔ پاکستان میں سکول جانے کی عمر کے 2 کروڑ بچے سکول نہیں جاتے جن میں 53% پنجاب سے تعلق رکھتاہے۔ یہ مسئلہ اس سے الگ ہے کہ سکول جانے والے بچوں کو فراہم کی جانے والی تعلیم کس معیار کی ہے۔ بچوں کی صحت کا معاملہ بھی عدم توجہی کاشکار ہے۔ کوشش کے باوجود وہ بیماریاں جن کا وجود دنیاسے ختم ہو چکا وہ پاکستان میں موجود ہیں اور ختم ہونے کانام نہیں لے رہیں۔ جعلی ادویات کے اسکینڈلز اس پر مستزاد ہیں،سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں کسی کا احتساب نہیں ہوتااور کسی معاشرے میں احتساب کا میسر نہ ہونا دراصل معاشرے کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔ مضبوط معاشرے، احتساب سے ہی بنتے ہیں۔ پاکستان میں ایک بے لاگ احتساب کی ضرورت ہے ۔ ایسا احتساب جس کی بنیاد اسلام کے نظام عدل پر ہو اور نظام جو کرپشن کاانسداد کر سکے ۔
کاروکاری، ونی،تیزاب گردی، قرآن سے شادی اور سوارہ جیسی رسوم و رواج معاشرے کے لیے ندامت کا باعث ہیں۔ موجودہ دور میں بعض علاقے ایسے ہیں جن میں بچیوں کے لیے تعلیم کا حصول ناممکن ہے، وراثت میں بیٹیوں کو حصہ نہیں دیا جاتا۔ ان مسائل کی بنیاد پرطاقتورممالک بالخصوص امریکہ وغیرہ معاشی لحاظ سے کمزور ممالک کااستحصال کرتے ہیں اور ان کو دبانے اور ان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کرتے ہیں اس کے نتیجے میں ردعمل سامنے آیا اورردعمل کے نتیجے ان اہداف کا حصول مزید دشوارہو گیا۔مجموعی طور پر بحیثیت قوم ہم بہت سے معاملات میں غیرذمہ دار انہ رویہ اور افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ پاکستان میں10سے15 بچے روزانہ جنسی ہوس کانشانہ بنتے ہیں۔ابھی چند ماہ قبل رونماہونے والے سانحہ قصورنے انسانیت کا سرشرم سے جھکادیا ۔آئے روزاس طرح کے واقعات سامنے آتے ہیں ۔ لیکن ان میں ملوث افراد کو کبھی سزا نہیں ملتی۔اس کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صوبوں میں بچوں کے تحفظ کے لئے کوئی با ضابطہ اور باقاعدہ پالیسی دکھائی نہیں دیتی ۔ پاکستان میں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور سکول نہیں جاپاتے ۔۔۔کیونکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں کتنے ہی بچے ہوں گے جو حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کرمحنت و مشقت کرتے ہیں۔لیکن حکومتی ترجیحات میں یہ مسئلہ کم ہی نظر آتاہے۔ حکومت کی توجہ میٹرو اورنج لائن ٹرین اور میگا پراجیکٹ بنانے کی طرف ہے لیکن معاشرے کے ان بنیادی،حساس اور اہم مسائل کو جو توجہ ملنی چاہیے وہ سردست اس توجہ سے محروم ہیں۔ ضرورت ہے کہ حکومت ان بنیادی مسائل کی طرف توجہ دے ۔ اس توجہ کے نتیجے میں انسانی حقوق کی صورت بہتر ہوگی اور صحت وتعلیم اور امن وامان کے مسائل بھی !!
اسلام کا ’نظام رحمت‘ انسانیت کے عمومی وخصوصی مسائل اور دکھوں کا وہ حل پیش کرتا ہے جس کو انسان اور اس کی فطرت کاپسندیدہ قرار دیا جاسکتاہے۔
مزید پڑھیں

Sunday, 9 August 2015

علی احسن مجاہد کا مقدمہ اور بھارت نوازحسینہ حکومت

| |
0 comments
بھارت کی کٹھ پتلی بنگلہ دیشی حکومت ،حسینہ واجد کی سربراہی میں انسانوں کی عزت، وقار اور مال و جان سے کھیل رہی ہے۔اور یہ سلسلہ کہیں ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ انسانی حقوق کی پامالی ، عدل وانصاف کاخون، جمہوری آزادیوں سے گریز اور انسانی خون بہانے کا سلسلہ گذشتہ ایک عرصے سے جاری ہے۔اپوزیشن جماعتیں ،جماعت اسلامی ہویا بی این پی حکومت اور حسینہ واجد کے عتاب کا خاص نشانہ ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں ملاعبدالقادر، اور قمرالزمان کوجرم بے گناہی میں پھانسی دی گئی ،پروفیسرغلام اعظم کا جنازہ جیل سے نکلا۔ اس بھیانک اور خونی کھیل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے نام نہاد عالمی جنگی جرائم کا ٹربیونل (ICT) قائم کیاگیا۔ یہ نام نہاد ٹربیونل (ICT)عدالت کے نام پر سیاہ دھبہ ہے جس کو کسی بھی باضمیر نے عدالت ماننے سے انکار کیا ہے اس نام نہاد ٹربیونل کے فیصلوں کے ذریعے جماعت اسلامی کی قیادت کو تختہ دار پر چڑھایاجارہاہے۔ کہ یہ لوگ اقراری مجرم ہیں۔ اور خود یہ نعرہ مستانہ بلندکرتے ہیں۔
ہم لوگ قراری مجرم ہیں۔ ہم لوگ قراری مجرم ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ جماعت اسلامی کے قائدین تختہ دار کو چوم کرآگے بڑھتے ہیں اور اس راستے میں آنے والی آزمائشوں اور مصیبتوں سے آگاہ ہین۔ لیکن ان کے قدمم نہیں ڈگمگاتے ان کے حوصلے نہیں ٹوٹتے، اپنے اللہ کی رضا ک لیے ہمہ وقت جدوجہد اور کشمکش میں مگن رہتے ہیں۔ بقول فیض
یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہولگادو ڈرکیسا
گرجیت گئے تو کیا کہنا ،ہارے بھی تو بازی مات نہیں
یہ بازی تو جیت کی بازی ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ یہ بازی لگانے والے کبھی نہیں ہارے۔

بھارت کی طفیلی بنگلہ دیشی حکومت کا اگلہ ہدف جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد ہیں۔ جن کو ICTنے 17جون 2013کو سزائے موت سنائی۔سپریم کورٹ میں اپیل کے نتیجے میں ایپلٹ بنچ تشکیل دیاگیا جس نے مختصر سی سماعت کے بعد درخواست نمٹادی اور علی احسن مجاہد کی سزائے موت کوبحال رکھا۔
جس پر علی احسن مجاہد کے صاحبزادے علی احمد مبرور نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف نہیں ملا۔اس فیصلے کے ذریعے ایک بار پھر انصاف کا قتل کیاگیا اٹارنی جنرل محبوب عالم نے کہا کہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد کیاجائے گا۔
علی احسن مجاہد کے وکیل خوندکرمحبوب حسین نے پریس کانفرنس میں کہا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر حیرت ہے باالخصوص ایسی صورت میں جب استغاثہ گواہی اور ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، ہم تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کریں گے۔ علی احسن مجاہد کے بڑے بھائی علی افضل محمد خالص نے کہا کہ میرے بھائی کو جھوٹی گواہی کی بنیاد پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایاگیا ہے۔حالانکہ وہ بے گناہ ہے۔میری فیملی اس جعل سازی اور سازش کی بنیاد پر کھڑے کئے گئے مقدمے کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔ ہم اس فیصلے کے خلاف احتجاج نہیں کریں گے ،اللہ کی عدالت سے انصاف چاہیں گے۔

قائمقام امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مقبول احمد نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا جھوٹ اور سراسر انتقام پر مبنی اس مقدمے نے نہ صرف بے رحم اور سفاک حکومت کا چہرہ بے نقاب کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے یہ حکومت علی احسن مجاہد جیسے بہادر رہنما کو ختم کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتی ہے۔
علی احسن مجاہد نے سزائے موت کا فیصلہ نہایت تحمل اورحوصلے سے سنا اور اپنے بیٹے کو جوپیغام دیا جسے بعدمیں سوشل میڈیا پر ڈالا گیا۔ وہ نہایت جرات و ہمت کے مالک شخص کا ہی بیان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس مقدمے کو مکمل طور پرمسترد کرتے ہوئے اسے حکومتی انتقام کا شاخسانہ قراردیا۔ انہوں نے کہا سزائے موت میرے لیے کوئی وقعت نہیں رکھتی اور نہ پریشانی کا باعث ہے میں نے اپنی زندگی میں کسی بے گناہ فرد کو قتل نہیں کیا اور نہ کسی ایسے گناہ کے ارتکاب میں شریک ہوا ۔ یہ حکومت کی باطنی نفرت، سیاسی انتقام،جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی الزامات اور نام نہاد عدالت کا نام نہاد فیصلہ ہے۔ جسے میں مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں۔ میں اللہ کے دین کی خدمت ، سربلندی کے لیے اپنی جان دینے کو ہر لمحہ تیار تھاتیارہوں۔اللہ مجھے اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مزید پڑھیں

Saturday, 8 August 2015

زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات

| |
0 comments
زنا گناہ کبیرہ میں سے ہے، یہ ایک ایسا فعل بد ہے جو انسان کے لیے دنیا و آخرت میں سوائے خسارے کے کچھ نہیں لاتا، کسی بھی معاشرے میں زنا کا عام ہونا، اس کی گراوٹ ، انحطاط اور زوال کا باعث ہے۔ یہ عمل بد جہاں فرد کی عزت و وقار کو تار تار کرتا ہے، وہیں پر معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنتا ہے۔ خاندان اور خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ میں اس فعل قبیح کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ 
یہ فعل بد میاں بیوی کے تعلق میں رخنہ اندازی ، توڑ پھوڑ اور آزاد جنسی خواہش کا سبب بنتا ہے۔ اور یہ جنسی خواہش کی تکمیل منع حمل (birth control)اور اسقاط حمل (Abortion)کا ذریعہ بن جاتا ہے، جس کے ساتھ مہلک امراض بالخصوص’’ ایڈز‘‘ فروغ پاتے ہیں۔ جبکہ جانی و مالی نقصان اس کے علاوہ ہوتا ہے۔ معاشرے میں ناجائز بچوں اور کنواری ماؤں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔ مغرب آج اس عفریت کے شکنجے اور نرغے میں ہے۔ اور مغربی معاشرہ اس فعل قبیح کے ثمرات و اثرات کی فصل خوب خوب کاٹ رہا ہے۔ 
اللہ نے انسان کے جنسی جذبے کی تسکین کو خاندان کی تشکیل سے جوڑا ہے اور اسے میاں بیوی میں محبت و الفت، قربانی و ایثار ، باہمی ادب و احترام ، حفظ مراتب کا ذریعہ بنایا اور گناہ کبیرہ اور فعل قبیح سے بچنے کا راستہ فراہم کیا۔ 
تمام مذاہب بالخصوص اسلام ، یہودیت، اور عیسائیت میں زنا بہت بڑا جرم ہے اورزنا میں ملوث اورمرتکب ہونے والوں کے لیے ان مذاہب میں سخت سزا تجویز کرکے ان افعال کی مکمل حوصلہ شکنی کی گئی ہے جو اس کا ذریعہ بنتے ہیں۔جن معاشروں میں زنا کو فرد کی آزادی کے نام پر قبول کیا گیا ہے۔ ان میں جنسی امراض کی بہتات عام ہے۔ خاندانی نظام کمزور اور شادی کا ادارہ متاثر ہوگیا ہے۔ شرح پیدائش کم ہونے کی وجہ سے اصل آبادی اقلیتوں کے مقابل خود اقلیت بن کر رہ گئی ہے۔
دین اسلام نے اس کو بڑا گنا قرار دیا ہے اور بڑی بے حیائی کا ذریعہ گردانا ہے ۔ سورۃ المومنون میں اہل ایمان کی اس صفت کا بیان ہے کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ حضور ؐ کا فرمان ہے تم د و جبڑوں کے درمیان والی چیز ’’زبان‘‘ اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز’’ شرمگاہ‘‘ کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ 
مولف نے نہایت جامع انداز میں’’ زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات‘‘ کے اس موضوع کا حق ادا کیا ہے۔ کتاب کی ترتیب ، انداز و اسلوب اور پیش کش خوبصورت ہے۔ زنا کے موضوع پر قرآن و سنت اور فکر معاصر کی روشنی میں اچھا ، جامع،مفید اورمستند لوازمہ پیش کیا گیا ہے۔ کسی موضوع کے اثرات سے آگہی ، اس سے بچنے اور سد باب کا سبب بنتی ہے، مولف نے یہ لوازمہ جمع کرکے درا صل اس فعل بد سے نہ صرف معاشرے کو بچانے بلکہ آگہی کا وافر سامان فراہم کیا ہے۔ 

نام کتاب : زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات 
مولف : ڈاکٹر فضل الہٰی 
صفحات : قیمت 400 روپے 
ناشر : النوادر اسلام آباد
مزید پڑھیں

Tuesday, 30 September 2014

مغرب کا خاندانی نظام اور اسلام

| |
1 comments
اسلام کامل اور عالمگیر نظام زندگی ہے اور اس نظام زندگی کو بڑی تفصیل کے ساتھ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیان کر دیاہے۔قرآن مجید میں ہر شعبہ زندگی سے متعلق رہنمائی عطا کی گئی ہے۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی، ازدواجی زندگی ہو یا خانگی و قبائلی، معاشی زندگی ہو یا معاشرتی، قرآن مجید نے ہر شعبہ زندگی میں ہدایت و رہنمائی کا حق ادا کیا ہے۔

 ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔
’’ وَہٰذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیْمًاط قَدْ فَصَّلْنَاالْاٰیَاتِ لِقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَo‘‘ (الانعام ۶: ۲۶) ’’ حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات ان لوگوں کے لئے واضح کر دیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں ۔‘‘

موجودہ دور مغرب کے علمی اورر فکری غلبے کا دور ہے، اسی غلبے کا نتیجہ ہے کہ آج مغرب کے افکار و نظریات ہر چہار طرف راج کرتے نظر آتے ہیں۔مغرب کے اس غلبے کے پیچھے دراصل اہل مغرب کی محنت اور جد و جہد کے ساتھ ساتھ ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا طویل سلسلہ ہے، مغرب میں بسنے والا ہر انسان ایک ذہنی کشمکش ، تناؤ اور روحانی طور پر مضطرب اور پریشان نظر آتا ہے۔لیکن اس پریشان فکری اور پریشان خیالی کے باوجود وہ اپنے طور طریقے ، رہن سہن بدلنے کو تیار نظر نہیں آتا۔
مغرب کا معاشرہ ہو یا خاندانی نظام شدید مشکلات کا شکار نظر آتا ہے اور اس کی وجہ اہل مغرب کی دین بیزاری اور دین سے دوری کے سوا کچھ نہیں ۔آسمان پر کمندیں ڈال لینے اور سمندر کی گہرائیوں کا کھوج لگا لینے اور ناپنے کے باوجود مغرب انسان کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکا۔وہ مداوا کر بھی نہیں سکتا جب تک وہ ابدی تعلیمات جو قرآن وسنت کی صورت میں انسانی رہنمائی کے لئے اللہ رب العزت نے بھیجی ہے ، پر عمل نہیں ہوگا۔انسان کی روحانی پیاس بجھ پائے گی اور نہ جسمانی مصائب کا علاج ہوگا۔مغرب کا خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کے جس مقام پر ہے ۔ اس سے مغرب کی دین بیزاری کا بڑا ہاتھ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ 
’’یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔o‘‘ (سورۃ النساء:۴:۱) 
ترجمہ’’ لوگو اپنے رب سے ڈرو، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلادیے اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات بگاڑنے سے پرہیز کرو ، یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے۔‘‘

سورہ نساء کی یہ آیت مسلم مرد و خواتین کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ مرد و عورت دونوں کی تخلیق ایک ہی طرح سے ہوئی ہے ۔یہ دونوں ایک دوسرے سے وابستہ اورایک دوسرے کا حصہ ہیں ۔دونوں کی جسمانی ساخت ایک دوسرے سے مختلف مگر دونوں سفر زندگی میں ایک دوسرے کے ممد و معاون ہیں ۔

کوئی مرد عورت کے بغیر زندگی کا سفر احسن طریق سے طے نہیں کر سکتااور کوئی خاتون مرد کے بغیر زندگی کا سفر طے نہیں کر سکتی۔مسلمان عورت اور مرد کی رفاقت اسی وقت جائز ہوتی ہے جب اللہ کا نام لیا جاتا ، خدا کا نام غیروں کو اپنا اور اپنوں کو غیر بنا دیتا ہے۔اسی کے نتیجے میں مرد و عورت ایک دوسرے کے ہم سفر بن جاتے ہیں اور ان کا یہ تعلق محبت اور اعتماد کا تعلق ہوتا ہے۔ جو اعتماد ،محبت اور بے تکلفی اس رشتے میں پائی جاتی ہے وہ کسی دوسرے رشتے میں نہیں۔ اللہ کا نام نئے تعلق کو وجود بخشتا ہے ۔جو کل تک غیر محرم تھے اور بے تکلف نہیں ہو سکتے تھے وہ اس مقدس رشتے اور بندھن میں بند ہو گئے ہیں۔قرآن مجید زوجین کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیتا ہے۔

ازدواجی زندگی انسان کو تہذیب و تمدن سے آشنا کرنے اور مہذب بنانے کا ذریعہ ہے۔ اسلام ازدواجی زندگی کو عبادت کا درجہ دیتا ہے نبئ مہربان ﷺ کی سیرت میں گھر والوں کے لئے عمدہ نمونہ ہے۔ آپﷺ فرماتے ہیں ’’تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے بہتر ہے۔
حضورؐ نہ صرف ازواج مطہرات کے جذبات و احساسات کا خیال رکھتے تھے بلکہ ان کی جائز تفریحات میں بھی شرکت فرماتے تھے ۔اس ضمن میں حضورﷺ کا رویہ اتنا عمدہ اور اعلیٰ ہے کہ یہ موجودہ دور کے خواتین کے حقوق کے کسی بڑے سے بڑے علمبردار کے ہاں بھی کم ہی ملے گا۔
یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے اسلام کا خاندانی نظام مضبوطی اور تقویت پاتا ہے۔ مغرب کا خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ مغر ب کے زوال کا بڑا سبب ہے ۔خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے مغربی معاشرے میں انتشار اور بگاڑ اپنے عروج پر نظر آتے ہیں۔بیوی اور شوہرمیں باہمی محبت و اعتماد اور احترام باقی نہیں رہا۔ مغرب اپنے خاندانی نظام کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانا چاہتا ہے مگر کیسے بچائے؟ اس کے لئے اسے کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔

مغرب اور اہل مغرب کے بارے علامہ اقبالؒ نے درست فرمایا 
       ؂ ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا 
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا 
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا

آج مغربی معاشرہ اور مغربی خاندان جس اذیت ناک کیفیت سے دوچار ہے اس میں اس کے خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کا بڑا ہاتھ ہے جنس کی وجہ سے مغرب پریشان اور اذیت سے دوچار ہے۔مغرب کا خاندان اور گھر کا نظام آرام و راحت اور سکون کا نہیں بے چینی اور پریشانی کا ذریعہ بن چکا ہے مغرب کا انسان ڈانسنگ کلبوں جؤا خانوں میں سکون کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے لیکن نہ ان کے معاشرے میں سکون ملتا ہے اور نہ گھر میں۔ضرورت ہے کہ مغرب کا انسان اسلام کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کر لے جس میں دنیاوی و اخروی اطمینان اور سکون ہی سکون ہے اور یہ موجودہ دور کے مسلمان کا کام بھی ہے کہ وہ مغرب کے بھٹکے ہوئے اور پیاسے انسان کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے۔
مزید پڑھیں

Wednesday, 5 February 2014

یوم یکجہتی کشمیر اور حق خود ارادیت

| |
1 comments
5 فروری  اہل کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے،جسے پاکستان ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ وادی میں پورے جوش و خروش کے ساتھ  منایا جاتا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر گذشتہ 23 سالوں سے پاکستان میں  باقاعدگی سے  منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو بطور یوم یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز 1990 میں اس وقت جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی اپیل پر ہوا۔ جس پر  اس وقت کی وزیر اعظم پاکستان محترمہ بےنظیر بھٹو اور اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں محمد نواز شریف نے لبیک کہا اور پوری قوم اس پر متحد ہو گئی اور یہ اعلان کیا کہ کشمیریو ! تم ہمارے ہو، پاکستان تمہارا ہے۔ تب سے آج تک یوم یکجہتی کشمیر ہر سال باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔

یوم یکجہتی کشمیر صرف اہل کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ تحریک تکمیل پاکستان کے لئے عزم اور با مثال جدوجہد کا حصہ ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔66 برس سے یہ شہ رگ ہندو بنئے کے زیر تسلط آذادی کے لئے بے قرار اور بے چین ہے۔ کشمیری حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں اور اس پر وہ کوئی سمجھوتہ یا لین دین کرنے کو تیا ر نہیں۔ بھارت ریاستی دھشت گردی کے ذریعے جذبہ حریت اور حق خود ارادیت کو کمزور نہیں کر سکا۔ اہل کشمیر اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت مانگ رہے ہیں۔ بھارت نے تمام تر عالمی قوانین کو  بالا طاق رکھتے ہوئے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے جو نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور عالمی ضمیر کے منہ پر طمانچہ اور اقوام متحدہ کا جواز اور وجود پر ایک بڑے سوالیہ نشان کے مترادف ہے۔  مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو خود لے کر گئے اور اب بھارت خود ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں سے منحرف ہو رہا ہے۔ اگر اقوام متحدہ مشرقی تیمور اور سوڈان میں ریفرنڈم کرا سکتی ہے تو کشمیر میں کیوں نہیں۔ اب تو بھارت میں  بھی ریفرنڈم کے حق میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔ عام آدمی پارٹی کے مرکزی رہنما پرشانت بھوشن نے بھی دو ٹوک انداز میں کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کے لئے کہا ہے۔ اسی طرح ارون دھتی  رائے ، گوتم نو لکھا جیسے انسانی حقوق کے علمبردار دانشور یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں  کہ بھارت کی اٹوٹ کی رٹ بے معنی اور فضول ہے۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیے بغیر بھارت کی اپنی سلامتی محفوظ نہیں۔  جبکہ کانگریس ، بھارتی فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے رویے اور سوچ وہی پرانی ہے جس میں تبدیلی کے آثار کم ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔

بھارت نے کشمیر کو ملٹری کیمپ میں تبدیل کر رکھا ہے۔ 8 لاکھ کے لگ بھگ پیراملٹری فورس کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے اور بھارتی فورسز رسوائے زمانہ قوانین کے نفاذ کے ذریعے حق خود ارادیت کی تحریک کو کچلنا چاہتی ہے۔66سال سے جاری اس تحریک کو کچلنا آسان کام نہیں لیکن بھارتی مظالم ہیں کہ بڑھتے چلے جاتے ہیں اور انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ رکنے میں نہیں آتا۔ 1989 سے 2013 تک انسانی حقوق کی پامالی کے چند اعداد و شمار؛ 

کل شہادتیں
94,984
زیر حراست شہادتیں
7,014
زیر حراست شہری
1,22,711
تباہ شدہ ذاتی املاک
1,05,966
عورتیں جو بیوہ ہوئیں
22,776
بچے جو یتیم ہوئے
1,07,466
جنسی تشدد کے واقعات
10,086


بھارتی فوج ان بدترین مظالم کے ساتھ انسانیت اور انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر رہی ہے ، آبادیاں ویران اور قبرستان آباد ہورہے ہیں۔ ان تمام مظالم پر عالمی انسانی حقوق کے علمبردار  بالخصوص امریکہ اور برطانیہ خاموش تماشائی بنے دکھائی دیتے ہیں۔

بھارت آذاد کشمیر کو پانی سے محروم کرنے کے لئے ڈیم بنا رہا ہے۔ دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبے ترتیب دیے جا رہے ہیں ، کشن گنگا ڈیم جس کی بڑی مثال ہے۔ دریائے نیلم میں پانی کی مطلوبہ مقدار حاصل نہ ہوپانے کے باعث نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ کی پیداوار شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح دیائے سندھ کو خشک کرنے کے لئے کوہ ہمالیہ کے دامن میں بڑی تعداد میں ڈیمز بنانے کا منصوبہ ہے۔

کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے بھارت کے ساتھ تجارت اور معاہدات سے پہلے کشمیر ایشو پر بات کرنا ضروری ہے کیوں کہ جب تک بھارت کشمیر پر سنجیدگی سے بات کرنے کو تیار نہ ہو اس کے ساتھ دوستی یا تجارت کرنا سوائے خسارے اور کشمیریوں کو مایوس کرنے کے کچھ حاصل نہ ہوگا اس لئے حکومت کو اہل کشمیر کی خواہش کے علی الرغم کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جس سے پاکستان کشمیر کے حق کے سے دستبردار ہوتا دکھائی دے۔ پاکستان اہل کشمیر کا وکیل ہےاور اسے مسئلہ کشمیر  مضبوط مؤقف اختیار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حق خود اردیت کے لئے اپنا کردار ادا کرے کشمیر کو از سر نو Core Issue  قرار دیا جائے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی اور آبی جارحیت کی حکمت عملی کو اقوام متحدہ ، او ائی سی اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں اجاگر کر کے بے نقاب کیا جائے ۔ مسئلہ کشمیر پر چین کی طرف سے ثالثی کی پیش کش سے فائدہ اٹھانے اور امریکی اثر ور سوخ سے نجات کے لئے مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
مزید پڑھیں

Friday, 31 January 2014

بھارت کی حالتِ زار اور انتخابات 2014ء

| |
2 comments

بھارت دنیاکی بڑی سیکولر جمہوریہ ،بڑی فوجی طاقت اور اقتصادی ٹائیگر ہونے کا دعویٰ کرتاہے، لیکن اس کے ان دعوؤں میں صداقت کم کم نظر آتی ہے ، بھارت کے شہروں یا دیہات یا قصبات کی حالت انتہائی خراب اور ناگفتہ بہ اور عوام کی غربت ، پریشان خیالی اور پریشان فکری اپنے عروج پر ہے ۔ پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ تعلیم کی سہولتیں دستیاب ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کررکھاہے۔ معاشرے کی اخلاقی حالت زار کا اندازہ جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بخوبی ہوجاتاہے ۔ خودکشیاں عروج پر ہیں اور ریپ (Rape)کے قصے کہانیاں عام۔
مہنگائی آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہے ، غربت اور غریب ہر چہار طرف نظر آتے ہیں ،گندگی ہی گندگی ،آوارہ کتوں کی بھرمار ، اور صفائی کا فقدان ہر چہار طرف دور دور تک نظر آتاہے۔ بے ہنگم ٹریفک کا دور دورہ ہے ۔ملک کی معاشی صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے ، اور عام آدمی خراب معاشی صورت حال کاذمہ دار کانگریس کی حکومت کو قرار دیتاہے ، ایک زمانہ تھاجب من موہن سنگھ کو معاشی ہیرو سمجھا جاتاتھا مگر اب صورت حال بدل چکی ہے ۔۔۔۔۔۔کو ئلے کے میگا سیکنڈل میں ان کا نام ان کے داغدار ہونے کی علامت کے طور پر نظر آتاہے۔ کرپشن کا دور دورہ اور ہر طرف کرپشن کے بڑے بڑے سیکنڈلز کا چرچاہے۔
مالی شرح نمو6فیصد سے کم ہو کر 5فیصد رہ گئی ہے۔ اور روز بروز اس میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔ غربت کی شرح میں ہونے والا اضافہ حکومت کو خود سبسڈی دینے کی ترغیب دیتاہے ، اور یہ سبسڈی 2001ء میں 17.499کروڑ تھی جو اب 2013ء میں 75000کروڑ کی حد سے تجاوز کر گئی ہے۔ بیروزگاری الاؤنس کے طور پر 40,000کروڑ روپے کا پیکیج دیاجارہاہے لیکن اس خراب ترین معاشی صورت حال کا سلسلہ کہیں رکتا نظر نہیں آتا ۔۔۔اور غیر یقینی معاشی حالات کا سلسلہ دراز ہوتانظر آتاہے۔
بھارت میں انتخابات کاسلسلہ 2014ء کے مئی میں مکمل ہوگا ۔ لیکن صورت حال ایسی ہے کہ کسی ایک پارٹی کو بھی واضح مینڈیٹ ملتادکھائی نہیں دیتا ۔۔۔اور نہ کوئی پارٹی تنہا حکومت سازی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں، دلتوں اور علاقائی جماعتوں کا کردار انتہائی اہمیت کاحامل ہوگا۔ان انتخابات میں کانگریس کی کامیابی ممکن دکھائی نہیں دیتی اس کی ایک وجہ کانگریس کی قیادت کا متحرک نہ ہونا ہے۔ اور راہول گاندہی ابھی تک قیادت کا وہ مقام حاصل نہیں کر پائے جبکہ خود سونیا گاندہی اس پوزیشن میں نہیں کہ کچھ کر سکیں، اب وہ اپنی بیٹی پریانکا کو یہ ذمہ داریاں سپرد کرنا چاہتی ہیں تاکہ کانگریس کے اس زوال کو روکا جاسکے۔بلاشبہ کانگریس نے اس دور میں سستے داموں گندم اور چاول فراھمی میں کسر نہیں چھوڑی لیکن کرپشن کے میگا اسکینڈلز،ڈالر کی قیمت میں اضافے اور مہنگائی کے سبب مقبولیت کا گراف نیچے آیا ہے۔ 
ایسے میں بھارت میں کرپشن کے خلاف مضبوط آواز بلند کرنے والے اناہزارے کے ساتھ اروند کجری وال کی جماعت عام آدمی پارٹی AAP،مقبولیت کے نئے معرکے سر کررہی ہے ۔ دہلی کے الیکشن میں ستر کے ایوان میں 28 نشستیں حاصل کرکے وزیراعلیٰ کا منصب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ عام انتخابات میں عام آدمی پارٹی کیا نتائج دکھاتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن بھارتی جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو اقتدار میں آنے سے روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ بی جے پی کی انتہا پسندانہ پالیسی ملک کو کہاں سے کہاں لے جائے گی اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں۔
بھارت اس وقت جس کیفیت سے دوچار ہے اس کے بارے میں سیاسی اور معاشی آگہی رکھنے والے بھارت کو غیر یقینی معاشی اور سیاسی صورت حال میں گھرا ہوادیکھتے ہیں۔ جس سے نکلنے کاکوئی راستہ انہیں دکھائی نہیں دیتا۔بھارت میں Vodafoneپر حکومتی اقدامات نے بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پریشان کررکھاہے جس کے باعث وہ تیزی سے اپنا سرمایہ بیرون ملک بھیجنے پر مجبور ہیں ۔ جس کانتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارتی زر مبادلہ کے ذخائر روز بروز کم ہوتے اور بھارتی کرنسی مسلسل قدر کھوتی اور گراوٹ کا شکار نظرآتی ہے ۔ اسی طرح کشمیر یوں کی جدوجہد آزادی ،ماؤ نواز باغیوں کی تحریکوں میں نئی شدت اور جوش پیداہوگیاہے ۔ اہل کشمیر گزشتہ 66 برس سے آذادی کے متلاشی ہیں بھارت اہل کشمیر کو حق خود ارادیت دینے سے گریزاں ہے۔ جس کے باعث بھارت میں ایک مستحکم ،پائیدار اور مضبوط حکومت کاخواب شرمندہ تعبیر ہوتانظر نہیں آتا۔
بھارت پاکستان کے خلاف مسلسل مورچہ زن نظر آتا ہے ، پاکستان کے ساتھ بھارت کا سلوک کبھی مثالی نہیں رہا اور نہ رویہ ایسا رہا کہ اس پر اعتما د کیا جا سکے ، بھارت کی آبی جارحیت سے پاکستان کے تین دریا خشک ہو چکے ہیں اور حکومت پاکستا ن بھارت کے ساتھ روشنی کے خواب دیکھنے اور MFNکا درجہ دینے کے لئے کوشاں اور بے قرار نظر آتی ہے ۔ جبکہ بھارت امریکہ اور اسرائیل کے تعاون سے خطے میں اپنی بالا دستی کے قیام کے لئے سرگرداں دکھائی دیتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ نیپال اور بھوٹان کی طرح بنگلہ دیش کو اپنا طفیلی اور باجگزار بنانے کے لئے کوشاں ۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد حکومت بھارت کی اشیر باد اور سرپرستی سے اپوزیشن پر ظلم کے پہاڑ توڑتی اور انسانی حقوق پامال کرتی نظر آتی ہے
مزید پڑھیں

Thursday, 16 January 2014

بنگلہ دیش میں فراڈ انتخابات

| |
1 comments
بنگلہ دیش میں 5 جنوری 2014کو ہونے والے انتخابات کو کسی طرح بھی منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے انتخابات جن میں اپوزیشن کی 21 جماعتوں نے بائیکاٹ کیا ہو، اور صرف حسینہ واجد کی حکومتی پارٹی ہی انتخابات میں حصہ لینے کی مجاز ہو، ان انتخابات کو فراڈ تو کہا جا سکتا ہے منصفانہ انتخابات نہیں۔

ان انتخابات کو مانیٹر کرنے کے لئے امریکہ، برطانیہ، دولت مشترکہ اور یورپی یونین نے اپنے مبصرین بھیجنے سے انکار کردیا۔ حسینہ حکومت کی بدنیتی اس سے واضح ہوتی ہے کہ اس نے بنگلہ دیشی آئین سے انتخابات کروانے کے لئے نگران حکومت  کے قیام کی شق پہلے ہی ختم کر دی۔ جماعت اسلامی کے رہنما ملا عبدالقادرشہید کو 1971میں افواج پاکستان کا ساتھ دینے کے جرم میں نام نہاد انٹرنیشل کرائم ٹربیونل کے عمر قید کے فیصلے کوکنگرو کورٹس کے ذریعے سزائے موت میں تبدیل کروا کے پھانسی پر لٹکا دیا۔ اور سابق وزیراعظم اور موجودہ اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیاء کو "مارچ فار ڈیموکریسی" میں حصہ لینے سے روکنے کے لئے گھر پر نظر بند کردیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی دھاندلی اور فراڈ کے باعث کاغذات نامزدگی داخل نہیں کروائے۔جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی 300 نشستوں میں سے 154 پر حکومتی جماعت کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب قرار پا گئے۔ لیکن حسینہ واجد کی یہ فتح نہیں شکست ہے۔

بھارتی سرپرستی میں ہونے والے یہ انتخابات خون ریزی پر مبنی تھے، جن میں سینکڑوں پولنگ اسٹیشنز جلا دیے گئے، 20 سے زائد افرادجان سے ہاتھ دھو بیٹھے، سارا دن مظاہرے ہوتے رہے، پولیس اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے احتجاج کرنے والے عوام پر ظالمانہ تشدد اور توڑ پھوڑ کے مناظر جابجا نظر آتے رہے۔

بنگلہ دیش کے یہ 9 ویں انتخابات تھے جس میں حسینہ واجد نے یکطرفہ طور پر حصہ لے کر بھاری اکثریت حاصل کرلی، ابتدائی نتائج کے مطابق عوامی لیگ نے 300 کے ایوان میں 232 نشستوں پر کامیابی حاصل کی لی ہے۔جبکہ حکومت سازی کے لئے آئینی طور پر 151 نشستوں کی ضرورت تھی۔

ان انتخابات میں ٹرن آوٹ تاریخ کی کم ترین سظح پر رہا۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ ٹرن آوٹ ٪20 رہا ہے لیکن باخبر حلقے جانتے ہیں کہ 16 کروڑ آبادی کے ملک مٰیں جہاں 8 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہوں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ان اتخابات کی کچھ ساکھ نہیں ہے اور ان کو جعلی انتخابات قرار دیا جا رہا ہے۔ حسینہ واجد حقیقی عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے، اس لئے دوبارہ انتخابات کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

حسینہ واجد ، بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی ہے، جن کا پورا خاندان بغاوت کی نذر ہوچکا ہے اب تیسری بار وزیراعظم بنی ہیں لیکن اس کے رویہ سے ایسا کچھ نہیں لگتا کہ انہوں نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا ہے۔حسینہ واجد کی غیر مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ٹرن آوٹ ٪70 تھا جو اب کم ہو کر ٪20 رہ گیا ہے۔

بنگلہ دیش اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، اور شدید سیاسی عدم استحکام، معاشی ابتری، غربت، بے روزگاری، کرپشن، انسانی حقوق کی سنگین پامالی، تشدد، فرقہ واریت، ہڑتالوں، مظاہروں اور توڑ پھوڑ کا شکار نظر آتا ہے۔ صنعتی حادثے ملک کا مقدر بن کر رہ گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ڈھاکہ میں 8 منزلہ فیکٹری کی عمارت میں آگ لگنے سے 1100 مزدور جاں بحق ہوئے، اس طرح کے پے در پے واقعات کے باعث امریکہ اور یورپ نے بنگلہ دیش ایکسپورٹ کو مزدورں کی حفاطت اور اجرت کے میعار کے ساتھ مشروط کردیا ہے جس سے سالانہ 20 بلین ڈالر کی ایکسپورٹس پر مبنی ذرمبادلہ خطرے سے دوچار ہے۔

اس کا ایک اہم پہلو بنگلہ دیش حکومت کا پاکستان بارے منفی رویہ ہے کچھ سالوں سے پاکستان صنعت کاروں نے بجلی کے بحران کے باعث بنگلہ دیش میں اپنی صنعت کو منتقل کیا تاکہ سستی اور وافر بجلی اور کم اجرت پر دستیاب مزدورں سے فائدہ اٹھایا جا سکے مگر حسینہ حکومت کے پاکستان کے خلاف حالیہ بیانات، اقدامات اور مشتعل مظاہرین کی جانب سے پاکستانی سفارت خانے کے گھیراو نے پاکستانی صنعتکاورں میں عدم تحفظ اور خطرے کی گھنٹیا ں بجا دی ہیں جبکہ ادھر پاکستان کو یورپی یونین نے GSP پلس کا درجہ دے دیا ہے جس پاکستانی ایکسپورٹس بنگلہ دیشی ایکسپورٹس کو مات دے دیں گی۔

بنگلہ دیش کا مسائل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔عوامی اور اخلاقی حمایت سے محروم حسینہ حکومت ان حالات کا کب تک مقابلہ کر پاتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ مگر حسینہ حکومت نے بھارت کی محبت میں ملک اور قوم کا جو نقصان کر دیا ہے اس کاجلد ازالہ ہوتا نظر نہیں آتا۔




مزید پڑھیں

Thursday, 9 January 2014

دیوارِ برہمن اور تقسیم ِکشمیر

| |
2 comments
بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس (BSF) نے جموں ،سیالکوٹ ورکنگ باونڈری پر 179 کلو میٹر لمبی اور 10 میٹر اونچی لوہے اور کنکریٹ پر مشتمل مضبوط اور ناقابل عبور دیوار کےمنصوبے پر عملدرآمدکا آغازکردیاہے۔ جبکہ اس سے قبل اس علاقے میں 12فٹ اونچی تار لگانے اور فلڈ لائٹس نصب کرنے کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ اس منصوبے سے 118 سرحدی دیہات مزید متاثر ہورہے ہیں۔جن کے باسی پریشانی ، بے چینی اور اضطراب کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اس دیوار پر کام کے آغاز سے قبل بھارتی حکام نےاسرائیل کا دورہ کرکے اُن کے ( حماس کے خلاف تجربات) سے فائدہ اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ دیوار کی وجہ جواز یہ بنائی گئی ہے کہ مجاہدین خاردار تارکو کاٹ کر بھارت میں داخل ہوجاتے ہیں اور اس کے بغیر مجاہدین کو روکنا ممکن نہیں۔ بھارتی مسلح افواج کشمیری مجاہدین سے کس درجہ خائف ہیں اس کا اندازہ اس سے بخوبی ہوجاتا ہے۔

جموں ،سیالکوٹ ورکنگ باونڈری پر دیوار بنانے کا منصوبہ بھارتی وزارت ِداخلہ کی فنڈنگ اور BSF کی نگرانی میں تکمیل پائے گا۔ جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حکومت سے NOC حاصل کیا جائے گا، اور فوجی مقاصد کے لئے 24 ممبران اسمبلی کی حمایت سےیہ تحریک ریاستی اسمبلی میں پیش کرکے منظوری حاصل کرنے کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے، اس ضمن میں دباؤ اور لالچ کےہتھیا ربھی آزمائے جا رہے ہیں۔
اس طرح کے دفاعی منصوبے بین الاقوامی اور ریاستی قوانین کے منافی اور انسانی حقوق سے متصادم ہیں، اس کے ذریعے سے بھارت کشمیریوں سے زمین ہتھیا کر غیر ریاستی باشندوں میں تقسیم کر کےمقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے عزائم پر عمل پیر ا ہے۔

یہ دیوار ، دیوار برلن سے زیادہ اونچی بلند اور وسیع ہے۔ بھارت کے اس مزموم منصوبے کے خلاف مقبوضہ جموں وکشمیر میں تحریک اپنے عروج پر ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ بھارت ابھی تک ریاستی اسمبلی سے NOC حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بھارت نے سیز فائر سے فائدہ اٹھا کر خاردار تار لگانے کا منصوبہ کافی حد تک مکمل کر لیا تھا۔ یہ خاردار تار سیز فائر لائن سے عام طور پر 2 سے 5 کلومیٹر اندر تک نصب کی گئی ہے، کئی مقامات پر یہ فاصلہ 10 کلومیٹرتک چلا جاتا ہے۔ جہاں جہاں آبادیاں آتی ہیں وہاں پر گیٹ بنائے گئے ہیں جن کے کھلنے اور بند کرنے کے اوقات مقرر ہیں جس سے مقامی آبادیاں شدید مشکل اور تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہیں۔

پاکستان ، پاکستانی حکومت، آزاد جموں وکشمیر حکومت اور سیاسی جماعتوں کا جو  اس سارے معاملے میں رویہ اور کردار ہے وہ بھارت کے عزائم کے سامنے "خاموشی " کا ہے۔ جس سے بھارت کو اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو کشمیر کے سلسلے میں دو ٹوک اور واضح پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ کیونکہ کشمیر پراصولی موقف سے پیچھے ہٹنے کے تاثر سے کشمیریوںکی جدوجہد کونقصان پہنچنے کےساتھ ساتھ، کشمیرکاز اور پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوگا۔ اس ضمن میں حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کو بین الاقوامی عدالت ِانصاف کا دروازہ کٹھکٹھانے سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر ہوگا۔ اور بین الاقوامی عدالت کے پاکستان کے حق میں فیصلے سے ہمارے موقف کو تقویت ملے گی۔ اور بھارت کو پسپا ہونا پڑے گا۔ کشمیریوں کا احتجاج اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس کے لئے عالمی ماہرین قانون کی خدمات حاصل کرکے پیش کی جاسکتی ہیں۔
مزید پڑھیں

Wednesday, 11 December 2013

شہید عبد القادر ملّا، حسینہ حکومت اور انسانی حقوق کی پامالی

| |
8 comments
ظلم،ناانصافی،جبراور فسطائیت کے دن ہمیشہ تھوڑے ہوتے ہیں ۔ان ہتھیاروں کو آزمانے والے جانتے بوجھتے اس حقیقت کو ہمیشہ نظر انداز کر دیتے ہیں،اور وقت کا دھارا ایک دن انہیں بتلاتا ہے کہ ان کے یہ ہتھیار نہایت کند ثابت ہوئے ہیں۔ آج بنگلہ دیش میں حسینہ حکومت اپوزیشن کے خلاف یہی حربہ آزما رہی ہے۔
وہ خبر آ گئی ہے جس کا انتظار تھا ،وہ خبر کیا تھی کہ آج رات 12 بجے عبد القادر ملاً کو پھانسی کی سزا پر عمل درآمد ہو گا۔ 65سالہ بزرگ ملا عبد القادر اس سارے معاملے میں جو مردانہ وار اورحوصلے سے کھڑے نظر آتے ہیں ۔عبدالقادر ملّا جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ہیں، جنہیں بنگلہ دیش کی کنگرو کورٹ نے سزائے موت سنا دی ہے ۔اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے انہیں عمرقید کی سزا سنائی تھی ،جسے بڑھا کر سپریم کورٹ نے سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔ سزائے موت کے عمل درآمد کے تمام انتظامات مکمل تھے ۔وکیل اور گھر والوں سے ان کی ضابطے کی ملاقاتیں کرا دی گئی تھیں ۔لیکن پھر چیمبر کورٹ نے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکنے اور مقدمے کی صبح 10 بجے فل بینچ سپریم کورٹ میں سماعت کا وقت دے دیا۔آج کا دن سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت ہوتی رہی جب کہ دوسری طرف ساراملک میدان جنگ بنا رہا ۔اور خانہ جنگی کی کیفیت نظر آئی ،اس موقع پر18جماعتی اپوزیشن متحد و مضبوط ہے ۔اپوزیشن کا اصرار ہے کہ حکومت انتخابات کا اعلان کرے اور اس سے پہلے عبوری حکومت کا جماعت اسلامی اس اپوزیشن کا مرکزی اور مضبوط حصہ ہے ۔
عبدالقادر ملا کو پھانسی کی سزا کیوں دی گئی،ان کے جرائم کیا ہیں ، ان کے جرائم یہ ہیں کہ 1971میں مشرقی پاکستان میں ہندوستانی فوج کے زیر نگرانی مسلح دہشت گردی کی کارروائیوں بالخصوص بغاوت، ملک توڑنے ،بھارتی افواج کا ساتھ دینے، پُرامن شہریوں کے قتل اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے والی مکتی باہنی کے بالمقابل جد وجہد میں حصہ لیا ، پاکستانی فوج کا ساتھ دیااور عوام تک اس جذبے کو منتقل کیا ۔وہ اس زمانے میں طالب علم تھے۔ ان کا یہی جرم آج 42سال بعد جنگی جرم بن کر سامنے آ گیا ہے ۔جنگی جرائم ٹریبونل نے جونہی عبدالقادر ملا کو سزا سنائی حسینہ شیخ سپریم کورٹ پہنچیں اور کہا کہ’’ عبدالقادر ملا کو عمر قید کی بجائے سزائے موت دی جائے۔‘‘اس موقع پر سیکولر لابی جس نے ہمیشہ بھارتی اور مغربی سرپرستی میں سزائے موت کی مخالفت کی ہے ،وہ یہ نعرے لگاتی نظر آئی کہ ’’عمرقید نہیں سزائے موت چاہیے ‘‘جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 18ستمبر 2013عدالت عظمیٰ نے عبدالقادر ملا کو سزائے موت سنا دی اور اپیل کا حق بھی سلب کر لیا۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں
عبدالقادر ملا 14؍اگست 1948کو ضلع فرید پور(بنگلہ دیش) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے 1968میں راجندر کالج فرید پور سے گریجوایشن کی اور ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایم اے میں داخل ہوئے وہ 1971کے بعد بنگلہ دیش سے باہر نہیں گئے ان کی زندگی کھلی کتاب کی مانند ہے ۔بطور صحافی ان کی خدمات قابل قدر رہی ہیں۔ روزنامہ ’’سنگرام‘‘ ڈھاکہ کے ایگزکٹو ایڈیٹر اور بنگلہ دیش نیشنل پریس کلب کے ممبر منتخب ہوئے ۔
5فروری 2013ء کو عدالت نے عبدالقادر ملاکے مقدمے کا فیصلہ سنایا تو بی بی سی کے نمائندے کے مطابق عبدالقادر ملا نے بلند آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بلند کیااور ججوں کو مخاطب کرکے کہا ’’ایسا غیر منصفانہ فیصلہ کرنے پر تمہیں کوئی اچھے نام سے یاد نہیں کریگا‘‘۔ان کے وکیل بیرسٹر عبدالرزاق نے کہا ’’یہ عدالت کے روپ میں ایک شکاری ہے‘‘ ۔The independentکے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد عبدالقادر ملا مطمئن اور خوش نظر آ رہے تھے۔ عدالت سے نکلتے وقت انہوں نے فتح کا
( victory)کا نشان بنایا۔20ستمبر کو ان کے صاحبزادے نے اپنے عظیم والد سے ملاقات کی اور ملاقات کے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے والد نے کہا کہ بیٹا مَیں کتنا خوش قسمت ہوں کہ جوانی میں جس موت کی دعا مانگا کرتا تھا اللہ کے فضل سے اب وہ موت میرے سامنے ہے۔اس پر غم نہ کرو بلکہ شہادت کی قبولیت کے لئے رب سے دعا مانگو‘‘
عبدالقادر ملا کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد ہوتا ہے یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا مگر پھانسی سے گزرنے کی یہ کوئی پہلی مثال نہیں ہوگی۔ اللہ کے راستے پر چلنے والے پھانسی کے پھندوں کو چوم کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ رب سے ملاقات کی آرزو پوری ہو رہی ہے، یہ حضورؐ کی جد و جہد کے امین اور ان کے ایک سچے پیروکاراور امتی ہیں۔سید مودودی ؒ کے جماعت سے وابستہ عبدالقادر ملا شہادت کے متمنی ہیں ۔ 
یہ اوراس طرح کے فیصلوں سے حسینہ حکومت اور اسکے سرپرستوں کے لئے حالات کو قابو میں رکھنا ممکن نہ ہو سکے گا۔ایک ایسی حکومت جس کی مدت پوری ہو چکی اور انتخابات جس کے سر پر منڈلا رہے ہیں اس کے لئے عبوری حکومت قائم کرنے اور انتخابات کا اعلان کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں مگر وہ ان اوچھے ہتھکنڈوں سے اپنا ہی راستہ کھوٹا کررہی ہے دوسروں کا نہیں۔بنگلہ دیش کے حالات سخت کشیدگی ،خانہ جنگی اور خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر حسینہ حکومت کو شاید اس کا ادراک نہیں وہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر جو کرنا چاہتی ہیں وہ کرنا بھی ان کے لئے اتنا آسان نہیں ہوگا۔
اسلام اور اسلامی تحریکیں دنیا بھر میں پیش قدمی کے راستے پر ہیں۔ ان تحریکوں کی راہ کھوٹی نہیں کی جا سکتی۔اسلام اور اسلامی تحریکوں کی جد و جہد سے خائف گروہ نت نئے حیلوں اور بہانوں سے ان کا راستہ روکنے کیلئے کوشاں ہیں لیکن یہ راستے بھی کبھی رک سکے ہیں جو اب رکیں گے۔حسینہ شیخ ہوں یا جنرل السیسی یہ سب استعمار کے مہرے ہیں۔ یہ تمام میرے خائب و خاسر اور نا کام و نامراد ہونگے اور اخلاص کے ساتھ اس راستے پر چلنے والے ہی کامیاب اور با مراد ہوں گے ۔ 
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے 
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں 
مزید پڑھیں

Thursday, 5 December 2013

نیلسن منڈیلا ۔۔۔ کامیابیاں اورناکامیاں

| |
1 comments
27سال تک دہشت گردی کے نام پر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور گوروں کی قید میں رہنے کے بعد نیلسن منڈیلا بالآخر’’ حریت پسند ‘‘ قرار پائے ،جنوبی افریقہ کے صدر بنے نوبل انعام کے حق دار ٹھرے اور آج 95سال کی طویل عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ 
95سال زندگی کی بہاروں سے مستفید ہونے والے نیلسن منڈیلا نے اپنے بدترین مخالفین کو معاف کردیا ۔۔۔حالانکہ وہ چاہتے تو ان کو سخت سے سخت سزا دلاسکتے تھے ۔ جن لوگوں نے ان پر ظلم ڈھائے ، سیاہ فاموں کو ظلم وجبر کی چکی میں پیسا۔ لیکن انہوں نے عفوو درگزر کاراستہ اپنایا ، اسی طرح اس نے اپنی زندگی بھر کی جدوجہد سے یہ درس دیاکہ جدوجہد اور کوشش کے راستے سے ظلم کو شکست فاش سے دوچارکیاجاسکتاہے اور یہ انہوں نے کرکے دکھایا ۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت تھی۔ وہ ایک الٰہی کرشماتی اور طلسماتی شخصیت کے مال تھے جس نے لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنائی ، اور ایک بڑی تعداد کو اپنے سحر میں لے لیا ۔ انہوں نے اپنی جدوجہد سے یہ بتایاکہ فرد سے زیادہ جدوجہد اور تحریک اہم ہوتی ہے۔ فرد آتے جاتے رہتے ہیں۔ جدوجہد کو ماند نہیں پڑناچاہیے ، جدوجہد جاری رہنی چاہیے کہ جدوجہد سے ہی زندگی کا سفر عروج پاتاہے۔
ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولنے والا نیلسن منڈیلا اپنی ذاتی محنت اور لیاقت کے بل بوتے پر اتنی کامیابیاں سمیٹ سکا۔ اس نے تمام عمر محنت اور جدوجہد کاراستہ اپنائے رکھا۔۔۔اور اسی محنت نے اُسے کامیابیوں اور عروج سے ہمکنار کیا۔ اس کابچپن کا زمانہ نہایت عسرت اور تنگدستی کا زمانہ تھا۔ نیلسن کی تین سگی بہنیں تھیں جبکہ ان کے کل تیرہ بہن بھائی تھے۔ ان کے والد بچپن میں ہی فوت ہوگئے ، سکول میں داخل ہونے کے بعد ان کی ایک ٹیچر نے ان کو نیلسن کانام دیا ۔ اس سے قبل ’’رولہلاہلا‘‘کے نام سے جانے جاتے تھے جو ان کا پیدائشی نام تھا۔ انہوں نے گریجویشن کے بعد وکالت کی تعلیم حاصل اور 1952ء میں اپنا لاء آفس کھولا۔ اس دوران وہ نسلی امتیاز کے تلخ تجربات سے بھی گزرے ۔ جس نے ان میں تلخی اور باغیانہ پن میں شدت پیدا کی ۔ نیلسن منڈیلا جدوجہد آزادی کے دوران کبھی نرم حکمت عملی کے قائل نہیں رہے۔ وہ اپنے دوستوں کو سجھاتے کہ نرم اور ٹھنڈی جدوجہد کا دور گزر گیا۔ اب عدم تشدد بے کارہے ، جس سے گوری اقلیت کو اختیارات سے محروم نہیں کیاجاسکتا۔ جو کسی طور اپنااختیار چھوڑنے پر تیار نہیں ۔ وہ کہتے کہ اگر پرامن احتجاج کا جواب تشدد سے ملے تو اس کی اثرپذیری ختم ہوجاتی ہے۔ عدم تشدد ایک حکمت عملی تھا اخلاقی اصول نہیں تھا۔ وہ کہتے کسی غیر مؤثر ہتھیار کو استعمال کرنے میں کوئی اچھائی نہیں ہوتی ۔11فروری 1990 ء کو حکومت کے ساتھ معاملات طے پا جانے کے بعد وہ رہاہوئے اور اگلے سال افریقن نیشنل کونسل ( ANC)کے صدر منتخب ہوئے۔ 1993ء میں نوبل انعام سے نوازے گئے۔ 1994ء میں پہلی بار سیاہ فاموں کو برابری کادرجہ دیاگیا۔ ملک میں انتخابات ہوئے جس میں وہ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بن گئے۔ اور اگلے 5سال صدارت پر فائز رہے۔ اس وقت ان کی عمر 76برس تھی ۔ 81برس تک منصب صدارت پر فائز رہے اور ملک کو ترقی ، تعمیر کی کئی نئی جہتیں عطا کیں ۔
ان کی وفات پروہ رطب اللسان پائے گئے۔ جو زندگی بھر ان کو دہشت گرد قرار دیتے رہے، برطانوی ریڈیو اور بی بی سی خاص طور پر پیش پیش رہے ۔ ان کی وفات پرانہیں اتنی کوریج ملی کہ اس کے خلاف شکایات پر مبنی بے شمار خطوط موصول ہوئے۔حالانکہ ڈیوڈ کیمرون اوران کی ٹوری پارٹی افریقن نیشنل کونسل(ANC)اورنیلسن کو دہشت گرد قرار دیتی رہی۔1989ء میں انہوں نے جنوبی افریقہ کا دورہ کیا۔ افریقہ کے خلاف اقتصادی پابندیو ں کی مخالف مہم کے خرچ پرکیاتھاجبکہ اب وہ انہیں قدآور شخصیت اور زندگی اور موت میں لیجنڈ (Legend) شخصیت قرار دیتے ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما اور سابقین صدور بش اور کلنٹن ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جنوبی افریقہ گئے لیکن جب وہ جزیرہ روبن میں قید کاٹ رہے تھے۔ اس وقت امریکہ ان کو دہشت گرد قرار دیتاتھا اور سفیدفام نسل پرست حکومت کی حمایت کرتاتھا۔ جبکہ امریکی صدر ریگن جنوبی افریقہ کی نسل پرست سفید فام حکومت کو کمیونزم کے خلاف ایک زبردست حصار قراردیتاتھا۔اب جبکہ وہ فوت ہوگئے ہیں تو یہ سب ان کی موت پر سرجھکائے ہوئے کھڑے ہیں۔
بلا شک ان کا بڑا کارنامہ جنوبی افریقہ کے عوام کو نسلی تفریق سے نجات دلانا۔ ملک کو مفاہمت کی راہ پر ڈالنااور 5سال بعد ہی اقتدار سے علیحدگی اختیار کرناقرار دیاجاسکتاہے۔ نیلسن منڈیلا کی مفاہمت کی پالیسی کو جنوبی افریقہ کے نوجوان فراڈ اور افریقی عوام سے غداری کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ جس کے بل پر سفید فاموں نے افریقی زمینوں اور املاک پر قبضہ کیااور افریقیوں کو ان کے جائز حق سے محروم کیا۔ مفاہمت کی پالیسی نے غریب افریقیوں کو کچھ نہیں دیاجبکہ سفید فام نسل پرستوں کی معیشت پر گرفت مزیدمضبوط ہوگئی اور اصلاحات بھی نہ ہوپائیں۔ نیلسن منڈیلا ملک کو نسلی تفریق سے آزادنہ کراسکے اور بڑی بڑی کمپنیوں کے دباؤ میں ملک میں نجکاری شروع کردی۔ یہ نجکاری نسل پرست نظام کو تحفظ دینے کا ذریعہ تھی ۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ معیشت پر نسل پرستوں اور بین الاقوامی سرمایہ داروں کا تسلط اور زیادہ مضبوط ہوگیا۔
27سال کی طویل مدت کی قید و بندکے بعد دنیا پر یہ راز کھلا کہ نیلسن منڈیلا دہشت گرد نہیں حریت پسند اور آزادی کاپروانہ ہے۔ شاید یہی دنیا کا دستوراور ہمیشہ ایسا ہی ہوتاآیا ہے۔ اس شخص نے طویل سیاسی جدوجہد کی ، اس کی جدوجہد تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ تابندہ رہے گی اور حریت پسند وں کے لیے روشنی کا چراغ۔
صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی صدارتی گفتگو میں اس مجاہد آزادی نے کہاتھا ۔۔۔’’ہم نے آخر کار سیاسی آزادی حاصل کرلی ہے اور ہم اپنے آپ سے عہد کرتے ہیں کہ اپنے سارے عوام کو غربت ، محرومی ،ابتلا اور جنسی دیگر امتیازات کی جکڑ بندیوں سے آزاد کرائیں گے۔ یہ آئندہ کبھی نہیں ، کبھی نہیں اور کبھی نہیں ہوگا کہ یہ خوبصورت سرزمین دوبارہ کسی طرح کے ظلم وستم سے دوچارہوسکے ۔۔۔اس قدر شاندار کامیابی پر سورج کبھی بھی غروب نہیں ہوگا۔ ‘‘
۔ 30اپریل 1964ء میں عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
’’میں اس سے انکار ی نہیں کہ میں نے تخریبی پلان ترتیب دیا لیکن میں نے ایسا کسی غفلت کے باعث یا اس بنا پر نہیں کیا کہ میں تشدد پسند ہوں ۔ یہ تخریبی تصور سفید فام آبادی کی جانب سے برسوں روا رکھے جانے والے جبر ، استحصال اور مستبدانہ حکومت کے سیاسی تسلسل کااطمینان اور سنجیدہ جائزہ لینے کاشاخسانہ ہے۔‘‘
۔ 11فروری 1990ء میں رہا ہونے کے بعد جمع ہونے والے ہجوم سے پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا
’’میں آپ لوگوں کے سامنے ایک نبی کے طور پر نہیں آیا بلکہ آپ کے ایک منکسرالمزاج خادم کے طور پر کھڑاہوں، آپ لوگوں کی انتھک کوششوں اور بہادرانہ قربانیوں کانتیجہ ہے کہ میں یہاں موجود ہوں اور اپنی زندگی کے بقیہ سال آپ کے سپرد کررہاہوں۔ ‘‘
۔ 10دسمبر 1993ء میں نوبل انعام وصول کیا۔ انعام وصول کرتے وقت اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے کہا
’’آئیں ایسے عمل کریں کہ مستقبل کی نسلیں کبھی بھی مردم بیزاری ،لاتعلقی ، خود غرضی اور بے حسی کاشکار ہو کر انسانیت کے اصولوں کو ترک کرکے ہمیں ناکام قرار نہ دے دیں۔‘‘
۔ 10مئی 1994ء کو اپنی حکومت کے قیام کے بعد خطاب کرتے ہوئے:
’’زخموں کے مندمل ہونے کا وقت آگیاہے ۔ تقسیم کرنے والے غارپر جوڑنے اور ملانے والے پل کی تعمیر ہوگئی ہے ۔ اب ہمیں آگے بڑھنا ہے ۔ ایک ایسے معاشرتی بندھن میں داخل ہو کر تمام جنوبی افریقی کے ایشیائی باشندوں ، سیاہ فام و سفید فام کو اپنے معاشرے کو تعمیرکرناہے تاکہ انسانیت سے ناقابل جدا ہونے والے حقوق کے حصول کی جانب کھلے دلوں کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہمارے سرفخر سے سربلند ہوں۔ ‘‘ 
نیلسن منڈیلا دنیا سے رخصت ہوگئے مگر جنوبی افریقہ کاترقی اور عروج کا سفر جاری ہے۔ اور ان کی قوم یہ سفرجاری رکھنے میں سرگرم اور پرجوش دکھاتی دیتی ہے ، زندہ قوموں کا یہی دستور اور شیوہ ہوتاہے۔
مزید پڑھیں

Tuesday, 8 October 2013

بچوں کے خلاف جرائم ۔۔۔ایک معاشرتی المیہ

| |
1 comments
یہ دہلی تھا اور نہ ممبئی یہ لاہور تھا جہاں یہ واقعہ رونما ہوا گو اس طرح کے واقعات دہلی اور بمبئی میں روز وقوع پذیر ہوتے ہیں ، کچھ رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور کچھ نہیں۔ لیکن بھارت کے سیکولر معاشرے میں اس طرح کے واقعات انہونی شمار نہیں ہوتے ،جس دھرم میں ناچ گانا عبادت کا درجہ پاتا ہو ۔ ڈرامے اور فلم کے ذریعے اپنی سوچ فکر کو درآمد کیا جاتاہو اور خواتین معاشرے میں کم تر درجہ پاتی ہوں وہاں یہ سب متوقع تھا۔ لیکن لاہور میں جو پاکستان کے دارالحکومت میں 5سالہ بچی سنبل ،کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا واقعہ ، ایک ایسامعاشرتی المیہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایسے واقعہ کا رونما ہونا ایک انوکھا اور انہونا واقعہ ہے۔ اس واقعے کو درندگی ،سفاکی ، بہیمیت جیسے الفاظ بھی کفایت نہیں کرتے ، اس کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے کم ازکم مجھے تو کوئی لفظ لغت میں نہیں ملا۔ یہ کیسا معاشرہ ہے اور اس معاشرہ میں اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا کس چیزکا غماز ہے۔ 
یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ، معاشرے کو ہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے معاشرے کی بے حسی ، روحانی ، اخلاقی اقدار کے زوال معاشی بدحالی، اقتصادی ناہمواری ،عدل وانصاف کی عدم فراہمی ،مایوسی کے عفریت ،مادیت پرستی ، دولت کی ریل پیل اور بے لگام میڈیا کے مادر پدر آزاد پروگرامات ،فحاشی و عریانی کاپردہ چاک کردیاہے۔ یہ اسی کھوکھلے پن کا نتیجہ ہے کہ عورت جو ماں ،بہن اور بیٹی کے درجے میں احترام اور تقدس کا درجہ پاتی تھی آج وحشیانہ پن اور درندگی و سفاکی کا شکار نظر آتی ہے ، اور اس کے خلاف جرائم کی ایک سیریز ہے۔ 
معاشرے تبھی زندہ رہتے ہیں جب وہ اپنی اخلاقی اقدار کی حفاظت کرتے ہیں اور قومیں وہی حیات جاوداں پاتی ہیں جو اپنی تہذیب ، اخلاق اور اصل کے ساتھ وابستہ رہتی ہیں۔ جب قومیں اپنی اصل سے روگردانی اور انحراف کاراستہ اختیار کرتی ہیں تب در اصل وہ خود انحطاط اور زوال کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں ۔ انحطاط و زوال کا راستہ روکنے کے لیے قوموں کا اجتماعی شعور بروئے کار آکر اس کا راستہ روکتاہے ۔ لیکن جب قوم کا دانشوراپنی اصل کو چھوڑ کر غیروں کا غلام بن جاتاہے۔ اور قوم کو بھی اس ذہنی غلامی میں مبتلا کرنے لگتاہے تو قومیں اور معاشرے اسی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں جس سے آج پاکستانی معاشرہ دوچار ہے۔ اور دن بدن یہ کیفیت بڑھتی چلی جاتی ہے کم ہونے ہی نہیں آتی ۔
حکمرانوں اور قومی اداروں نے بھی اس حوالے سے شاید آنکھیں بند کررکھی ہیں۔جب اداروں کی سمت کوئی اور ہواور حکمرانوں کا کوئی قبلہ کوئی اور تو قومیں بھی اپنی منزل اور نشان منزل گم کردیتی ہیں۔ آج پاکستانی معاشرہ اسی کیفیت سے دوچارہے۔حکمرانوں، پالیسی ساز وں ، میڈیا مالکان ، کالم نگار، اینکرز ،دانشور ، ماہرین تعلیم او رعلمائے کرام کو اپنا اپنا کردار ادا کرناہے ۔ مگر ان کا کردار اصلاح ،درستگی اور سدھار کے لیے جو ہونا چاہیے وہ نظر نہیں آتا ، دینی و اخلاقی اقدار کی پامالی ،بے حیائی اور فحش کی اشاعت ،سیکولرازم کے نام پر اسلام اور اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانا ، عام ہوتا جارہاہے اور معاشرہ ایک ایسی کیفیت سے میں ہے جو مسلسل اُسے ذلت و نکیت اور زوال میں دھکیلتی جارہی ہے۔ضرورت ہے کہ معاشرہ اپنے انحطاط سے آگاہ ہو،غفلت چھوڑ دے اور یہ جان لے کہ یہ دنیا کی زندگی ہے۔
یہ چندروزہ اور مختصر زندگی ، دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے بعد موت ہے اور موت کا لمبا سفر ،ہم اس سفر میں کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام ، دنیاوی زندگی کے اعمال کی بنیاد پر ہی آخرت میں فیصلہ ہوگا ۔۔۔اور ہم اس امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام اس کا فیصلہ ہمیں آج کرناہے ۔۔۔جو بوئیں گے کل وہی کاٹیں گے۔اس لیے چند روزہ دنیاکی چکاچوند پر فریفتہ ہو کر اپنی آسائشوں کی خاطر معاشرے کے انحطاط کو روکنے کی بجائے بڑھنے دینا، درست رویہ قرار دیا جاسکتا اور نہ درست حکمت عملی ،اس لیے مسلمان معاشرے بڑوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔۔۔ میڈیا اور میڈیا مالکان پالیسی سازاداروں کو بھی دولت کے حصول کے لیے یہودی دماغ کی ڈکٹیشن کو سامنے رکھ کرہی پالیسیاں نہیں بنانا چاہیے ۔۔۔بلکہ اپنی اخلاقیات اور اقدار کو سامنے رکھ کر ہی آگے بڑھنا چاہیے اورپالیسی ساز ی کرنا چاہے ایک اچھے صحت مند اور مثبت معاشرے کے قیام کے لیے ہم سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرناہے ۔۔۔اور اپنے حصہ کا کام بھی ، یہ معاشرہ اور یہ ملک ہمارا ہے ، ہمیں نے اس کو بنانا اور سنوارناہے۔
مزید پڑھیں

Monday, 7 October 2013

کیا شاہ زیب کا خون رائیگاں جائے گا؟

| |
0 comments
اپنی بہن کی عزت کا رکھوالا ، غیرت مند نوجوان شاہ زیب ، جان دے کر تو نہیں ہاراتھا۔ مگر اب دولت کی ریل پیل کے سامنے شاید ہارگیاہو۔ خبر یہ آئی کہ اس کے والدین نے ملزموں کو بغیر لالچ کے اللہ کی رضا کہتے ہوئے معاف کردیا ۔معافی اچھی بات ہے ، اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتاہے مگر یہ کیسی معافی ہے کہ جس نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے اور اس کے ساتھ ہی دوسری خبر یہ آئی کہ 35کروڑ میں سمجھوتہ ہواہے۔ بااثر تالپوراور جتوئی خاندان کے نوجوانوں کے ہاتھوں شاہ زیب کا قتل دل دہلادینے والاتھا۔۔۔اور یہ واقعہ پی پی کے حمایت یافتہ با اثر سیاستدانوں کے ہراساں کرنے کے باوجود نمایاں ہوا۔سوشل میڈیا نے اس پر واویلا کیا ۔ میڈیا بھی ادھر متوجہ ہوا اور سپریم کورٹ نے اس کانوٹس لے لیا ۔ شاہ رخ جتوئی اور دیگر مجرمان کو 5۔5لاکھ روپے جرمانہ اور سزائے موت اور عمر قید کی سزا ہوگئی ۔
شاہ زیب شہادت کی ایک غیرت مند نوجوان کی شہادت تھی جس نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان دے دی ۔۔۔اور بے حس معاشرے کو گویا زندگی بخش دی ، اس نے اپنی جان تو دے دی مگر معاشرے کو یہ پیغا م دیا کہ اصل چیز اخلاقی اقدار ہوتی ہیں ۔ دھن ،دولت ثروت اور اختیار نہیں ، اور اس کے لیے اس نے جان کی بازی لگادی ۔ اب اس کے والدین نے 35کروڑ میں سمجھوتہ کیا ۔۔۔وہ سمجھوتہ نہ کرتے تو کیا کرتے ، بیٹا ان کا چلا گیا ۔۔۔معاشرے میں بدنامی الگ ہوئی ،وڈیروں ، جاگیرداروں اور سیاستدانوں کا دباؤ کون برداشت کرے ۔ اس کے والدین کے پاس تو آپشن یہی ہے اب معاشرہ اس کو مطعون کررہاہے کہ دیکھو آ پ نے اپنے بیٹے کا خون بیچ دیا وہ یہ سب نہ کرتے تو کیا کرتے۔ معاشرے نے ان کا کتنا ساتھ دیا۔ معاشرہ اور اہل معاشرہ بھی تو سوچیں ۔انہوں نے عافیت اسی میں جانی ہوگی کہ صلح کا راستہ اختیار کرلیا ۔ لہٰذا صلح ہوگئی ۔۔۔مگر معاشرے کو کیا پیغام گیا ۔۔۔کہ دھن دولت کی بنیاد پر ، امیر اور دولت مند طبقہ جسے چاہے قتل کرسکتاہے ، اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتاہے۔ نہیں مگر اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ اس طرح کے ایک مقدمے میں اسی طرح کی صلح کو غیر اہم قرار دے چکی ہے۔۔۔اورایسے واقعات جن سے فساد فی الارض رونما ہونے کا خدشہ ہو عدالت اپنی صوابدید کے مطابق سزا دے سکتی ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ ورثاء قاتلوں اور دہشت گردوں کو معاف نہیں کرسکتے ۔ طاقت ، دولت اور اختیار کے سامنے ایک غریب ملازمت پیشہ خاندان کیا کرتا؟ اس ضمن میں ریاست اورمعاشرے کا کردار کم اہمیت کا حامل نہیں ، معاشرے کا کردار خاموش تماشائی اور بے حسی پر مبنی ہے ۔
غریب عوام کو معاشرے میں تحفظ حاصل نہیں ، طاقتور ،دولت مند اور با اختیار کی پذیرائی ہوتی ہے ، اور غریب کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ تم چھوٹے بن کر رہو ، ایسے معاشرے خدا کے غضب کو دعوت دیتے ہیں اور ہمارا معاشرہ اس کیفیت سے دوچار ہے، یہ دراصل انحطاط ، زوال اور پستی کی انتہائی حدیں ہیں ۔ یہ زندہ نہیں مردہ معاشرے ہوتے ہیں۔ یہ ساری علامتیں ان کے مردہ اور زوال پذیر ہونے کی ہیں ، جب معاشرے میں دولت ، اقتدار اور اختیار کی بنیاد فیصلے ہونے لگیں ، انصاف کا حصول ممکن نہ رہے تو ایسے معاشرے دراصل اپنی طبعی عمر پوری کرچکے ہوتے ہیں ، معاشروں کی زندگی اسی میں ہوتی ہے کہ ان میں انصاف ناپید نہ ہونے پائے ۔۔۔انصاف زندگی کی علامت ہے ۔ جن معاشروں میں انصاف ہوتاہے وہ معاشرے نہیں مرتے ، زندگی ان کا مقدر ہوتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ہمارا معاشرہ انحطاط کی آخری حدوں کو چھو رہاہے لیکن کہیں کہیں کوئی روشنی بھی نظر آتی ہے اور قوم اور معاشرے کو حوصلہ اور جذبہ عطا کرتی ہے۔ یہ آج کے دور میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری روشنی کا ذریعہ ہیں ، ایک دوسرے مقدمے میں انہوں نے اس پر جو تبصرہ کیا وہ حالات کا صحیح عکاس ہے ۔ان کابیان نہ صرف عوام کے غم و غصے کو کم کرنے اور حوصلہ دینے والا تھا ۔۔۔جس میں انہوں نے کہاکہ قتل کے مقدمات میں اللہ کے نام پر معافی دھوکہ ہے ۔ اسلامی تعلیمات کا غلط استعمال ہو تو اللہ کا عذاب نازل ہوتاہے ۔ قتل پر فی سبیل اللہ معافی فساد فی الارض ہے شاہ زیب ، اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرکے اللہ کے حضور پہنچ گیا۔ اس کے والدین نے جو فیصلہ کیا وہ دباؤ ، دولت و قوت اور اختیار و اقتدار کے سامنے سرنڈر کرکے دراصل قوم اور معاشرے کی بے حسی پر دلالت کرنے والاہے۔ قوم اور معاشرے نے اس مظلوم خاندان کا کیا ساتھ دیا ۔۔۔جن کا جواں سال اکلوتا بیٹا جان سے گزر گیا ۔۔۔کیسا بے حس معاشرہ ہے ۔البتہ کورٹ سے ایک اچھی اُمید اور توقع ہے کہ وہ عدل و انصاف کا بول بالا کرنے والا فیصلہ دے گی ، لیکن سوال پھر یہی ہے کہ کتنے شاہ زیب روز قتل ہوجاتے ہیں ۔۔۔مگر انصاف سے محروم رہتے ہیں ، کیا شاہ زیب کو انصاف مل پائے گا ؟ یا اس کا خون رائیگاں جائے گا؟
مزید پڑھیں

Saturday, 9 March 2013

سندھ میں نومسلم خواتین کا مسئلہ

| |
پاکستان اسلام، اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے قیام کے لیے تھا اور اسی لیے لاکھوں مرد و خواتین ، بچوں بوڑھوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ قیامِ پاکستان دراصل سیکولر لابی کی شکست تھی۔ اسی لابی نے آج تک پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا۔ یہ لابی پاکستان کی جڑیں کھودنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ بیرونی اشاروں پر اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا سے فنڈ ز کے حصول کے لیے یہ لابی وقتاً فوقتاً مختلف ایشوز کھڑے کرتی رہتی ہے، اور اس کی آڑ میں اپنا شکار جاری رکھتی ہے۔ یہ نام کے مسلمان پاکستان میں مادر پدر آزادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ میں تین ہندو لڑکیوں نے اسلام کیا قبول کیا کہ اس لابی نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ ان لڑکیوں کے قبولِ اسلام کا یہ واقعہ کوئی نیا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی قبولِ اسلام کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ مذہب یا عقیدہ تبدیل کرنا کوئی نئی بات بھی نہیں، دنیا بھر میں لوگ اپنے نظریات و عقائد تبدیل کرتے ہیں لیکن اتنا واویلا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ گذشتہ سال ٹونی بلیئر کی سالی نے اسلام قبول کیا لیکن اتنا واویلا نہیں ہوا۔
اس سارے معاملے میں گھوٹکی کے علاقے بھرچونڈ کا تذکرہ ہوتا رہا۔ جو درگاہ بھرچونڈہ کی وجہ سے معروف ہے جس کے سجادہ نشین میاں عبدالخالق عرف میاں مٹھو ہیں۔ اس درگاہ کا امتیاز ہے کہ اس میں ہندو کمیونٹی کے افراد آکر اسلام قبول کرتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ محمد بن قاسم کی آمد سے جاری ہے۔ ہوا یوں کہ ہندو کمیونٹی کی ایک لڑکی رنکل کمار(فریال بی بی) نے اسلام قبول کیا اور نویدشاہ سے شادی کرلی۔ بس پھر کیا تھا طوفان برپا ہوگیا۔ سیکولر لابی کے ہاتھ پروپیگنڈے کے لیے ایک واقعہ ہاتھ آگیا۔ میڈیا اور اس لابی نے مل کر جمہوریت، آزادی کے نام پر اس معاملہ کو اُچھالا۔
اسلام زور زبردستی اور جبر کا دین نہیں۔ قرآن میں ہے: لا اکراہ فی الدین (دین میں جبر نہیں)۔ اسلام قبول کرنے والے اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کرتے ہیں۔ یہ تاریخِ اسلام کا روشن اور انمٹ باب ہے کہ مسلمانوں نے کبھی غیرمسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہو، یا ڈنڈے کے زور پر کلمہ پڑھایا ہو۔ موجودہ دور بجاطور پر کمپیوٹر کا زمانہ ہے۔ میڈیا نے بے پناہ ترقی کرلی ہے۔ اس میں جو اسلام کے دامنِ رحمت میں آتا ہے وہ کسی زبردستی اور جبر کے ساتھ نہیں۔ اسلام تو دلوں کو فتح کرتا ہے۔ یہ کوئی نئی مثال بھی نہیں ، دنیا بھر میں ہرروز بے شمار لوگ اسلام قبول کرتے ہیں اور اسلام کے دامنِ رحمت میں پناہ لیتے ہیں۔ امریکا سے لے کر برطانیہ تک اسلام کی تعلیمات لوگوں کے دلوں میں گھر کر رہی ہیں۔ پاکستان میں اگر کسی نے اسلام قبول کیا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔
تبدیلیِ مذہب کے ضمن میں سیکولر لابی کی جانب سے چند سوالات و اعتراضات کیے جاتے ہیں : 
۱۔ہندو لڑکیوں کو ہی کیوں اغوا کر کے جبراً مسلمان کیا جاتا ہے اور مسلمان ان کے ساتھ شادی کیوں کرتے ہیں۔
۲۔تبدیلی مذہب اگر ہرکسی کا بنیادی حق ہے تو پھر مسلمانوں کو بھی تبدیلیِ مذہب کا حق کیوں نہیں دیا جاتا۔ پاکستان میں اقلیتیں غیرمحفوظ ہیں۔ یہ اور اس طرح کے اعتراضات سیکولر لابی کی جانب سے اُٹھائے جاتے ہیں۔
ہندو کمیونٹی مسلمانوں کا خصوصی ہدف کبھی نہیں رہی، یہ سراسر بہتان ہے۔ اسلام قبول کرنے والا خود اپنی آزاد مرضی سے فیصلہ کرتا ہے اور اسلام قبول کرتا ہے۔ ہندو مذہب میں چونکہ ذات پات کا بہت گہرا عمل دخل ہے اور ہندو مذہب میں کزن میرج کی جاتی ہے اور نہ دوسری شادی (بیوہ ہوجانے والی خواتین کے لیے دوسری شادی کی ممانعت ہے) ہندوؤں میں شادی بیاہ کے بھی بہت پیچیدہ مسائل ہوتے ہیں۔ ہندو لڑکیوں کے والدین کو شادی کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلاشبہہ ہندو لڑکیوں کے گھروں سے نکلنے اور قبولِ اسلام کے باعث بھی یہ رجحان فروغ پذیر ہے۔ علاوہ ازیں رشتہ ڈھونڈنے اور انتظام کرنے، پھر جہیز جیسے مسائل آڑے آتے ہیں۔ لیکن یہ واقعات اِکا دُکا ہوتے ہیں۔ ۲۰۱۱ء میں لاڑکانہ میں ۲۶۸ خواتین اغوا ہوئیں، ۲۰۱۲ء میں ۳۰۰ خواتین اغواہوئیں، مگر دو خواتین کے قبولِ اسلام کو اغوا کا نام دیا گیا۔ واویلا کیا گیا کہ جبرن مسلمان کیا گیا۔ اس طرح کے الزامات اور پروپیگنڈے کے ذریعے بعض نام نہاد این جی اوز اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف یہ ہے کہ اس طرح اسلام قبول کرنے والوں کا راستہ روکا جائے۔ بہت سی ہندو لڑکیاں جو اسلام قبول کرنا چاہتی ہیں دراصل یہ ان کا راستہ روکنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن یہ عناصر یہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ کا معاشرہ جاگیردار اور وڈیرہ شاہی کا معاشرہ ہے جہاں جاگیردار اور وڈیرے کی مرضی کے بغیر کم ہی کچھ ہوتا ہے۔ جاگیرداروں کی نجی جیلیں ہیں جن پر غریب ہاری، مزدوری اور اغوا براے تاوان کے مجرم رکھے جاتے ہیں لیکن ان سیکولر عناصر کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا۔ اس غلامی اور جبر کے خلاف بھی صرف دینی طبقے نے ہی آواز بلند کی۔
دستور پاکستان ۱۹۷۳ء کی رُو سے اقلیتوں کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے اور مذہبی آزادی (آرٹیکل ۲۰) بھی۔ اس کے تحت ان کو تمام مذہبی آزادیاں حاصل ہیں۔ پاکستان میں تمام اقلیتیں آئینی، سماجی، قانونی تحفظ رکھتی ہیں جو خود بھارت میں مسلمانوں کو حاصل نہیں۔ سیکولر اکثریت ملک ہونے کے باوجود مسلمانوں کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں اور نہ گھر، تہذیب و تمدن کے خطرات اپنی جگہ ہیں۔پاکستان واحد ملک ہے جہاں جداگانہ انتخابات قیامِ پاکستان کے مقاصد کا حصہ تھے۔ پرویزمشرف کے ’روشن خیال‘ دور میں جداگانہ انتخابات کا خاتمہ کر کے مخلوط انتخابات کا ڈول ڈالا گیا اور اقلیتوں کو ۔۔۔ ووٹ کا حق دیا گیا جو دنیا کی کسی جمہوریت میں نہیں ہوتا۔ اب سینیٹ میں بھی اقلیتوں کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے براہِ راست نمایندگی کا حق دیا گیا۔ پاکستان دستوری طور پر اسلامی ریاست ہے اور قرارداد مقاصد اس کا مستقل حصہ ہے۔ ایک نظریاتی اور اصولی مملکت کا ضابطہ اور طریقہ کار واضح ہے۔ اقلیتوں کو زبردستی اکثریت پر مسلط کی سازش ہے جو فساد کا ذریعہ بنے گی۔
سپریم کورٹ نے ان کا فیصلہ سناتے ہوئے انھیں اپنے شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور کہا کہ یہ بالغ ہیں جہاں جانا چاہیں جاسکتی ہیں، انھیں روکا نہیں جاسکتا۔ اس طرح اس کا ڈراپ سین ہوا۔ اس فیصلے پر لڑکیوں کے عزیز رشتہ دار، این جی اوز کے چند ارکان دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ ان بچیوں کے والدین کا جذباتی ہونا ایک قدرتی معاملہ ہے لیکن ای جی اوز اور میڈیا کی جانب سے اس واقعے کو اُچھالنا اور ہندو برادری پر مظالم کا رونا رونا عجیب ہے۔ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص بُری طرح مجروح ہوا۔ ضرورت تھی کہ اس طرح کے معاملات کو آپس میں مل جل کر سلجھالیا جائے۔ مناسب ہوتا کہ این جی اوز اور سیکولر لابی ان معاملات کو اُچھالنے سے پہلے تحقیقات کرلیتے۔
ہندو کمیونٹی اور سیکولر لابی واویلے، چیخ و پکار اور نومسلم لڑکیوں کے ارتداد کے راستے میں جماعت اسلامی نے بھی نہایت حکمت کے ساتھ بند باندھا۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں سیمی نارز منعقد کیے گئے۔ جن سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، اسداللہ بھٹو، سجادہ نشین درگاہ بھرچونڈہ میاں عبدالحق میاں مٹھو نے اس مسئلے کے دینی، قانونی اور آئینی پہلوؤں پر روشنی ڈالی جس سے عوام الناس کو اس مسئلے سے آگہی ہوئی۔
سیکولر عناصر اس ضمن میں قائداعظم محمد علی جناح کی ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کا بار بار حوالہ دیتے ہیں لیکن اس سے قبل کی گئی ان کی سیکڑوں تقاریر اور بیانات کو بھول جاتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کو مذہبی آزادیاں بھی حاصل ہوں گی۔ دستورِ پاکستان ایک ایسی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ جس میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست کا رُوپ نہیں دھار سکا۔ وقتاً فوقتاً پاکستان میں برسرِاقتدار آنے والی مفاد پرست سیاسی قیادتوں اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنی سیاسی ضروریات کے تحت ملک کی سمت کا تعین نہیں ہونے دیا۔ اور آج ہرطبقہ اپنی اپنی بولی بولتا نظر آتا ہے اور ملک میں بحرانوں کے سائے گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ پاکستان کے بسنے والوں کے تمام مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کا حل اسلامی فلاحی پاکستان میں ہے۔
معاشرے میں ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں سیکولر عناصر اور میڈیا کے صاحبان بست وکشاد کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ایک طرف یہ عناصر سیکولرزم، روشن خیالی کا پرچار کرتے نہیں تھکتے۔ دوسری جانب ایسے واقعات کے نتائج پر واویلا کرتے نظر آتے ہیں، یہ کھلا تضاد ہے۔
معاشرے کو جس جانب میڈیا لے کر جارہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر ہالی وڈ اور اسٹارپلس کے ڈراموں، فلموں اور FM ریڈیو کے ذریعے جس محبت کا درس نوجوان نسل کو دیا جاتا ہے اس کا نتیجہ تو یہی نکلے گا۔ اس پر سیکولر عناصر کو واویلا کرنے کے بجاے خوشی کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔
سیکولر لابی چاہتی ہے کہ آیندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کے ذریعے مسلمان ہونے والوں کا راستہ روکا جائے اور مسلمان ہونے سے قبل مسلمان ہونے والے فرد کو مذہب کے مطالعہ کے لیے وقت دینا چاہیے۔ سندھ کے ۴۹ وزرا میں سے تین وزرا ہندو ہیں۔ سندھ اسمبلی میں سات رکن اور قومی اسمبلی میں سات، جب کہ سینیٹ میں تین ارکان مگر یہ لوگ اپنا کردار ادا کرتے نظر نہیں آتے۔ صرف اپنے ذاتی مفادات کے لیے سرگرداں و کوشاں محسوس ہوتے ہیں۔ ہندو کمیونٹی کو ان واقعات سے دُکھ پہنچنا فطری ہے لیکن اس میں مسلم کمیونٹی کا زور زبردستی اور جبر شامل نہیں۔ اسلام دین رحمت ہے، اس کی تعلیمات انسانوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ اگر کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو اس میں اغوا یا زبردستی کا عنصر شامل نہیں ہوتا۔ ایک فطری جذبہ محرک ہوتا ہے، جو دین فطرت کی جانب مائل کرتا ہے۔ باقی رہا سیکولر لابی کا معاملہ تو چونکہ اس واویلے کے ساتھ ان کے فنڈز اور پراجیکٹس اور عالمی ایجنڈے کو پورا کرنے کا کام وابستہ ہے۔ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے تمام مسائل حل بھی ہوجائیں تو ان کو سب ٹیڑھا ہی نظر آئے گا۔
مزید پڑھیں